جہلم میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے ذمہ داران لمبی تان کر سو گئے

0 102

جہلم: شہر اور گردونواح میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے ذمہ داران لمبی تان کر سو گئے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے پرچون سطح پر صارفین کا استحصال شروع کررکھا ہے ،دکانداروں نے سرکاری نرخنامے آویزاں کرنے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی من مانے نرخوں پر فروخت شروع کر رکھی ہے۔

شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی اور گرانفروشی نے قیمت ایپ پنجاب کے جاری کردہ نرخوں کے پر خچے اڑا کر رکھ دیئے۔ مرغی کا گوشت 502 کی بجائے ساڑھے 5 سو روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔ دوسری جانب گرانفروش مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی نہ صرف اپنا قانونی حق سمجھتے ہیں بلکہ اسے رزق حلال بھی قرار دیتے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کروانے میں نا کام نظر آتے ہیں۔

مارکیٹ کمیٹی کے جاری کردہ نرخوں کے برعکس لیموں چائنہ215 کی بجائے400 روپے، میتھی 22 کی بجائے 50 روپے ، آلو60 کی بجائے90 ، پیاز 75 کی بجائے 110 شملہ مرچ60 کی بجائے 90روپے، ادر ک335 کی بجائے 500 ، مرچ سبز60 کی بجائے 90 بینگن 45 کی بجائے100 ، کریلا 70روپے کی بجائے100 روپے۔ ٹماٹر 70 کی بجائے 100 روپے۔ کھیرا50 کی بجائے 80 روپے، پھول گوبھی 60 کی بجائے 90 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

مٹر 155 کی بجائے 200 روپے، پالک 22 کی بجائے50، کالا کالو سیب300 کی بجائے 400 روپے، انار قندھاری400 روپے کی بجائے 500 روپے، امرود200 کی بجائے 300 روپے، کیلا 220 کی بجائے 300درجن ، خربوزہ100 کی بجائے 150 روپے ، تربوز40 کی بجائے 100 روپے اور سٹرابری 230 کی بجائے 300 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.