دینہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں گداگروں کی یلغار، شہری پریشان

0 12

دینہ: شہرو ملحقہ علاقوں میں گداگروں کی یلغار ، شہری پریشان، گداگروں میں زیادہ تعداد بھکارنوں و بچوں کی ہے جو حلیہ سے دوسرے اضلاع کے معلوم ہوتے ہیں ، بھکارنیں جگہ جگہ شہریوں کا پیچھا کر کے زبردستی بھیک کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ کم سن بچوں کو جعلی معذور بنا کر یا زخمی ظاہر کر کے اہم مقامات پر بٹھادیتی ہیں۔

ان دنوں بھکاریوں کی بڑی تعداد نے دینہ شہر کے لاری اڈا، ریلوے روڈ، منگلا روڈ، جی ٹی روڈ، داتا روڈ، نکودر چوک پرائمری ہیلتھ سنٹر ہسپتال سمیت شہر کے مختلف چوک چوراہوں، بازاروں کا رخ کر لیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے لئے گھروں میں آرام کرنا، دکانداروں کا دکانداری کرنا، نمازی افراد کا عبادت کرنا، مسجدوں سے نکلنا، شاپنگ کرنا اور پیدل چلنا عذاب بن کر رہ گیا ہے۔

شہر بھر کی چھوٹی بڑی گلیوں، بازاروں، سڑکوں ،چوک، چوراہوں، مسجدوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں بس اسٹینڈز پر بھکارنوں کے جھرمٹ کی وجہ سے شہری اور راہگیر شدید ذہنی اذیت کا شکار نظر آتے ہیں اس کے برعکس قانون نافذ کرنے والے ادارے بھکارنوں، بھکاریوں کے سدباب کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گداگری ایکٹ موجود ہونے کے باوجود اس پر بھی کہیں عملدرآمد نظر نہیں آتا، شہریوں پر دھاوا بولنے والی گدا گر خواتین میں کمسن بچیوں اور نوعمر لڑکیوں سمیت عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں، انہوں نے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں خواتین کی اکثریت شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھا کر بچوں کی کئی روز کی بھوک یا مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا حوالہ دے کر اور دیگر مختلف حربے استعمال کرتی اور بھیک وصول کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

شہریوں نے ڈی پی او سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.