آج جو طاقت، اختیار، جتنا جس کے پاس ہے اس سب کا حساب روز محشر دینا ہوگا۔ امیر عبدالقدیر اعوان

0 56

دینہ: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا۔اور اس کلام ذات باری تعالی کی وجہ سے سارے مہینوں میں سردار مہینہ رمضان المبارک ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب نے کہا کہ آج ہم نے قرآن کریم سے رشتہ ناظرہ کی حد تک تو رکھا ہے لیکن جو حکم قرآن کریم ہمیں دیتا ہے اس پر عمل نہ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہو رہا ہے۔ جس کا جتنا بس چل رہا ہے وہ سود کھا بھی رہا ہے اور سود پر انفرادی طور پر رقم بھی دے رہا ہے۔ہمیں ان نافرمانیوں سے تائب ہوکر واپس پلٹنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاشرے میں جو خرابی ہے اس کا سبب ہم تو نہ بنیں ہم تو اپنا حصہ اس میں سے نکالیں۔ دنیا میں آج جہاں بھی خوشحالی ہے اس کا اگر سبب دیکھیں گے تو کوئی نہ کوئی اسلامی پہلو اس کے پیچھے آپ کو نظر آئے گا۔ آج مغرب کی مثالیں دی جاتی ہیں وہاں کے قوانین اور ان کا نفاذ اسلامی حکم کے قریب تر ہے۔جنہوں نے نقل کی وہ استفادہ حاصل کر رہے ہیں اور جو وارث ہیں انہوں نے اپنی وراثت چھوڑی ہے ذلیل ہو رہے ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ نور ایمان احساس ذمہ داری سے آشنا کرتا ہے حکومت کو چاہیے کہ قانون کی بالا دستی قائم کرے اور اس کا نفاذ مساوات کے ساتھ ہو۔ ہم ایک دوسرے پر اعتراض کر کے خود کو بری کر لیتے ہیں سب سے پہلے خود اپنے محاسبے کی ضرورت ہے ہم ٹھیک ہوں گے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہو گا ہرایک کے پاس جو حیثیت ہے جو طاقت ہے وہ دیکھے کہ اُس کا استعمال کیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم حق و باطل کی تفریق کرتا ہے سیدھا راستہ ایک ہی ہے سب راستے حق کے راستے نہیں ہیں۔درست بات وہی ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی ہے اگر کوئی کعبہ کی چھت پر بھی چڑھ جاتا ہے لیکن عمل درست نہیں تو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ کریم رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں اپنی اصلاح اس طرح سے نصیب ہو کہ باقی گیارہ مہینے ہمیں اطاعت کی توفیق نصیب ہو۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی ا جتماعی دعا بھی فرمائی۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.