پاکستان کی آبادی

0 16

2023 نئے سال کا اپنے تمام تر امکانات، امیدوں، مواقع اور چیلنجز کے ساتھ آغاز ہوگیا ہے۔

آج بنی نوع انسان کا عالمی معاشرہ 8 ارب افراد پر مشتمل ہے جس میں پاکستانی قوم کی نمائندگی 23 کروڑ افراد پر مشتمل ہے تمدن کے آغاز پر انسان نے یہ جان لیا کہ وہ بقائے انسانی کے لیے انفرادی کوشش کی بجائے اکھٹے مل کر بہتر انداز میں چیلنجز سے نبردآزما ہو سکتا ہے اس لئے انسانی آبادیوں، قبیلوں، ملکوں اور معاشروں کی تشکیل کا عمل شروع ہوا جوکہ آج کی ٹیکنالوجی اور مواصلات کے انقلاب کے بعد ایک عالمی معاشرہ کی تشکیل کا باعث بناہے۔

یہ بات روزِ اول سے عیاں ہے کہ انسان کو تمدن کے ہر دور میں خواہ وہ بقائے انسانی، معاشرتی یا معاشی ترقی کے لیے اپنی ضروریات یا خواہشات کی تکمیل کے لیے وسائل اشیاء و خدمات کی فراہمی کے حصول کا چیلنج درپیش ہے۔

انسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے جو وسائل درکار ہیں ان میں انسانی وسائل یاانسانی محنت، سرمایہ(مالی مادی)، قدرتی وسائل جن میں زمین کی زرخیزی، زمین کے نیچے موجود معدنیات، آب و ہوا کہ ساتھ ساتھ ان تمام وسائل سے ایک مربوط عمل کے ذریعے پیداواری عمل کی صلاحیت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ تمام عوامل اپنی اپنی حیثیت میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان میں انسانی وسائل اس لیے خاص ہیں کہ یہ وسائل اپنی ہی ضرورت کی تکمیل کے لیے اس پیداواری عمل کا نہ صرف حصہ ہیں بلکہ مرکز و محور بھی ہیں۔

انسان کی محنت ہی سرمایہ (خواہ آلات کی صورت ہو دیگر حیثیتوں میں ہو)کی تشکیل کی بنیاد ہے جس پریہ طے ہوا کہ اگر انسانی معاشرہ کے سماجی و معاشرتی ترقی یا پیدا وار میں بہتری لانی ہے تو یہ انسانی وسائل میں بہتری اور ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کی آبادی تقریباً 23 کروڑ افراد پر مشتمل ہے جس میں سے تقریباً 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ آج اور مستقبل کے سرمایہ کاری مقاصد کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آج کی انسانی انفرادی یا اجتماعی معاشرتی و معاشی ضروریات کے حصول کے لیے جو پیداواری وسائل چاہئیں وہ ہمارے دستیاب انسانی وسائل کی پیداواری صلاحیت سے ممکن ہیں؟(جس کا جواب آج کے وقت میں یقینا نا کی صورت میں ہے۔

پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام خواہ وہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ ہو یا فنی تعلیم کا، ہماری نوجوان نسل کو درکار صلاحیتیں اور پیداواری تربیت فراہم کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے ہمارا نوجوان صرف جسمانی محنت فراہم کرسکتا ہے جو فنی صلاحیت یا تخلیقی قابلیت آج کے دور میں درکار ہے اس میں ہم اقوام عالم سے بہت پیچھے ہیں اس لئے ہماری ملکی پیداوار عالمی تجارت میں ہمارا حصہ عالمی تعلیمی اور تحقیقی ماحول میں ہمارا کردار اور موجودہ معاشرے کی ترقی اور مستقبل کی تعمیر میں ہماری شمولیت کے امکانات کسی بھی لحاظ سے قابل ستائش نہیں ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دستیاب انسانی وسائل جو کہ نوجوانوں کی صورت میں ہیں ان میں سرمایہ کاری کریں اور مستقبل کی ضرورتوں کو زیر نظر رکھ کر اپنی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ کو کنٹرول کریں تاکہ ہم اپنے دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنا سکیں نہ کہ ہر سال اپنی آبادی میں اتنے زیادہ افراد کا اضافہ کر دیں کہ جن کی بنیادی ضرورتوں کو ہی بہتر طور پر پورا نہ کرسکیں۔

جب بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور فنی صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے ان کو درسگاہوں اور تربیت گاہوں میں موجود ہونا چاہیے تو اس وقت وہ پیٹ کی دوزخ کو بھرنے کے لئے کسی سڑک کنارے مزدوری یا بھیک مانگتے نظر نہ آئیں اگر ہم اپنے آج کو مستحکم اور مستقبل کی بہتر تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو انسانی وسائل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے، ورنہ ہم آبادی کے لحاظ سے تو پہلے پانچ ملکوں میں ہونگے لیکن ترقی کے لحاظ سے یہ درجہ بندی ایک خواب ہی رہے گا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.