حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

0 344

اسلام وہ حقیقت ہے کہ منکر بھی جسے انکار کے باوجود کلی طور پر جھٹلا نہیں سکتا، اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور تمام فطری تقاضوں کو بہترین طریقے سے پورا فرماتا ہے اس لیے دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے بھی ”تحقیق“باآوازبلند یہ ثابت کرتی نظر آتی ہے کہ انسان اسلام کے وضع کردہ اصولوں کے بغیر دنیاوی ترقی کی منازل بھی طے نہیں کر سکتا۔

جب اس کے ظاہری پہلو سے بڑھ کر باطنی پہلو پہ توجہ مبذول ہو تو سمجھ آتی ہے کہ یہ عظیم اور انمول مگر واحد ذریعہ ہے جو بشر کو بندہ بناتا ہے اور بندے کو تراش کر بندگی کی لذتوں سے آشنا کر دیتا ہے۔ بتوفیق الٰہی یہ آشنائی گرہیں کھولتی جاتی ہے کہ خالق کون ہے؟ مخلوق کی کیا حیثیت ہے؟کارگہہ حیات کیا ہے اورامتحان کیا ہے؟ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے؟مردود کون ہے اور مقرب ہونا کیا ہے؟ فنا کی حدود کیا ہیں اور حیات ابدی کیا ہے؟

اللہ پاک نے انبیا ورسل علیھم السلام کو مخلوق کی تربیت کا فریضہ سونپا اور ان عظیم ہستیوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کو امام الانبیاؑ مبعوث فرمایا۔ اگر کل بشریت کو دوحصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک جماعت انبیاء ورسل علیھم السلام کی اور دوسری غیر انبیا کی ہو گی۔ امت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کریم نے بے شمار عظمتوں میں سے ایک ایسی منفردعظمت عطا فرمائی ہے کہ جس کا ذکر بھی کلام ذاتی میں فرمایاکہ کل بشریت میں دو ہستیاں ایسی ہیں جنہیں معیت ذاتی نصیب ہوئی۔

تمام انبیاء ؑ کو ہمیشہ معیت نصیب رہتی ہے لیکن وہ معیت صفاتی ہوتی ہے۔ اہل اللہ کو جو معیت نصیب ہے وہ بندے کی صفات سے مشروط ہوتی ہے۔انبیاء ؑ میں نبی اکرمﷺ اور غیر انبیاء میں حضرت ابو بکر صدیقؓ وہ ہستیاں ہیں جن کی ذات ہائے مقدسہ کو اللہ کریم کی ذاتی معیت نصیب ہے۔فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاَ ]التوبۃ9:40[ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وقت ہجرت نبی اکرمﷺ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے کندھوں پہ سوار تھے تو عالم خلق کو حضورﷺ سے تعلق حضرت صدیق اکبرؓ کے وجود مبارک سے نصیب تھا۔ عشق نبویﷺ کی بات ہو یا اطاعت رسولﷺ کی،بندگی کی عظمتیں ہوں یا نبیﷺ کی تربیت کا عملی نمونہ اگر نشانِ منزل کے طور پر چناؤ کرنا ہو تو سر فہرست نام مبارک آئے گا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ کی پیدائش عام الفیل سے تین سال بعد بمطابق 50ق ھ574/ ء کو عثمان بن ابی قحافہ کے گھر مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔آپؓ کی والدہ ماجدہ کانام ام الخیر سلمیٰ اور قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم تھا۔آپؓ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر جا کر نبی کریم ﷺ سے ملتا ہے۔آپؓ کی ازواج مبارکہ کی تعداد چار،تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں تھیں۔آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا آپ ؓ اہل مکہ میں متمول اور قابل احترام حیثیت کے مالک تھے۔آپ ؓ کا دور خلافت دو سال تین ماہ اور گیارہ دن تھا۔آپؓ نے 22جمادی الثانی 13ہجری بمطابق23اگست 634ء کو تریسٹھ برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں دار فانی سے پردہ فرمایا۔

آپؓ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیْلِ ]الفتح48:29[ کی شان کے مطابق نبی کریم ﷺکی خدمت میں بچپن ہی سے مامور فرما دئیے گئے۔ بالغ افراد میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پہلی ہی دعوت پرمشرف بااسلام ہوئے۔ آپﷺ کی مکی زندگی سے لے کر وصال نبوی ﷺکے دن پیشانی مبارک پر بوسہ دینے تک ہمہ وقت حاضر خدمت اور تعمیل حکم میں سر تسلیم خم رہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکا دیا مگر ابو بکر صدیقؓ کے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا۔

آپؓ واحدہستی ہیں جنہیں مسلسل چار نسل تک شرف صحابیت نصیب ہوا۔ والد محترم حضرت ابی قحافہ،آپؓ،صاحبزادے حضرت عبدالرحمن اور پوتے حضرت ابو عتیق محمدؓ۔ آپؓ کے پہلے نام عبد الکعبہ کی تبدیلی عبد اللہ کے ساتھ،صدیق اور عتیق کے القابات دربار رسالت سے نصیب ہوئے۔ آپؓ نے وصال نبویﷺ کے امتحان میں ثابت قدم رہتے ہوئے نو زائدہ اسلامی ریاست کو انتہائی قلیل دور خلافت میں مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔ آپؓ تدوین قرآن، ابتدا تسخیرِ عراق و شام، منکرین زکوٰۃ کا سد باب نیزانسداد فتنہ ارتداد کا سبب بھی ہوئے۔

آپؓ کے وصال ِمبارک کے مہینے میں لکھتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ آج ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ جن لوگوں کی زندگیاں حصولِ زر کے لیے ساز وآواز میں گزریں وہ تو قومی سرمایہ گردانے گئے ااور ان کی پیدائش وموت کے دن ہمیں خوب یادرہتے ہیں مگر وہ ہستیاں جن کی زندگیاں نشان ِمنزل بنیں ان کی یادیں ہم فراموش کیے بیٹھے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.