موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات

0 20

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔موسمیاتی تبدیلی کی سب سے اہم وجہ جنگلات کا کٹاؤ ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ سے بارشیں بہت کم ہو رہی ہیں اور آلودگی بڑھ رہی ہے۔ آلودگی کے بڑھنے سے اوزون لیئر بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ لیئر ختم ہو گئی تو زہریلی شعائیں زمین پر براہ راست پہنچیں گی جس سے سکن کینسر اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ جائیں گی۔

جب سائبریا جیسی منجمد زمین پگھلتی ہے وہاں میتھین جو ایک گرین ہاؤس گیس ہے فضا میں خارج ہوتی ہے جس سے موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے جو جنگل کی آگ کیلئے سازگار موسمی حالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آب و ہوا میں ہمیشہ قدرتی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اب عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ کی ایک وجہ جنگلات کی کٹائی ہے جب درختوں کو جلایا جاتا ہے یا کاٹا جاتا ہے تو عام طور پر ان میں کاربن کا زخیرہ ہوتا ہے اور اس کا اخراج ہوتا ہے۔جنگلات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے انسانی سرگرمیاں بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ سے جنگلی حیاتیات پر بھی اثر پڑ رہا ہے جس سے بہت سے جانوروں کی تعداد میں واضع کمی ہو رہی ہے۔

جنگلات کسی بھی علاقے کی آب و ہوا کو خوشگوار بناتے ہیں اور درجہ حرارت کی شدت کو کم کر دیتے ہیں۔جنگلات کافی حد تک بارش برسانے کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ ان کی موجودگی میں ہوا میں آبی بخارات میں اضافہ ہو جاتا ہے جو بارش برسانے کا باعث بنتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو آپس میں جکڑے رکھتی ہیں جس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ پانی کے بہاؤ سے مٹی کی زرخیز تہ بہ نہیں سکتی جس سے زمین کی زرخیزی قائم رہتی ہے۔

جنگلات کے نہ ہونے سے دریا اپنے ساتھ ریت اور مٹی کی بڑی مقدار بہا لے جاتے ہیں جس سے ہمارے ڈیم اور مصنوعی جھیلیں بڑھ جاتی ہیں اور زراعت و صنعت کے لئے کم پانی زخیرہ ہوتا ہے۔درخت سیم وتھور زدہ علاقوں میں بہت کارآمد ہیں کیونکہ یہ زمین سے پانی جذب کر لیتے ہیں جس سے زیر زمین پانی کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے اور اس کی سطح نیچے چلی جاتی ہے۔

جنگلات میں اضافہ کر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ مو سمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پوری دنیا کو سیلاب اور خشک سالی کا سامنا بیک وقت کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں صاف پانی آب وہوا اور صاف غذا کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے شجر کاری نہایت ضروری ہے۔ 2019ء میں Suriname دنیا میں واحد ایسا ملک تھا جس میں سب سے زیادہ جنگلات پائے جاتے تھے۔

2020ء میں پوری گلوبل زمین کا 54 فیصد (2 اعشاریہ 05 بلین ہیکرز) رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔پاکستا ن میں بہت کم رقبے پر جنگلات موجود ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج آب و ہوا سے متاثر ہونے والا چھٹا ملک ہے۔ پاکستان کے کل رقبے 87 اعشاریہ 98 ملین ہیکٹرز میں سے 4 اعشاریہ 57 ملین ہیکٹرز جو کہ کل رقبہ کا 5 اعشاریہ 2 فیصد پر جنگلات پائے جاتے ہیں۔

ہر پاکستانی شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے حصہ کا پودا لگائیں اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضراثرات سے بچاؤ میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.