تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اہم چیلنج

0 233

پاکستان کو درپیش معاشرتی چیلنجز میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک اہم چیلنج ہے جس کا ادراک اور تدراک کیئے بنا ایک خوشحال قوم اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔

2017 ء کی مردم شماری کے نتائج نے ہمیں اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ انیس سالوں میں 1998سے 2017 تک اوسط سالانہ شرح پیدائش 2 اعشاریہ 40 رہی اور وطن عزیز کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ کر 20 کروڑ 78 لاکھ تقریباً افراد ہوگئی جوکہ 2022 کے اختتام پر 23 کروڑ افراد کے لگ بھگ ہے۔

صوبہ پنجاب کی آبادی جو کہ 1998 میں تقریباً سات کروڑ 36 لاکھ نقوس پر مشتمل تھی پنجاب میں اوسطاً سالانہ شرح افزائش2اعشاریہ13 رہی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کی آبادی 2022 کے اختتام پر تقریباً بارہ کروڑ افراد کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔

پاکستان کی آبادی کے اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ پاکستان اور صوبہ پنجاب میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا اور اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے کیوں کے ایک ایسے معاشرتی مسئلہ کے لئے جو کہ سماجی، معاشی، ثقافتی، اور مذہبی عوامل سے جڑا ہوا ہو۔

اس کے حل کی ذمہ داری کسی ایک ادارہ یا فرد پر عائد کرکے ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے بلکہ اس مسئلہ کی بیخ کنی کے لیے ہمیں جن محاذوں پر لڑنے کی ضرورت ہے، ان میں عورتوں کی تعلیم، معاشی ترقی، روزگار کے بہتر مواقع، عورتوں کے لیے معاشی امکانات پیدا کرنا، بڑی عمر کے افراد کے لیے معاشرتی اور معاشی تحفظ کا اہتمام، خاندانی منصوبہ بندی کے پیغام کی ترویج، اور خدمات کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔

ضلع جہلم کی آبادی 1998 میں تقریبا نو لاکھ 36 ہزار افراد پر مشتمل تھی جو کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریبا 12 لاکھ 26 ہزار نفوس تک بڑھ گئی ہے، جبکہ ضلع جہلم کی گزشتہ 19 سال میں اوسطاً سالانہ شرح افزائش آبادی1اعشاریہ41 رہی ہے جو کہ پنجاب بھر میں دوسری بہترین شرح ہے۔

ضلع جہلم نہ صرف آبادی کے لحاظ سے بلکہ صحت، تعلیم، معاشی و معاشرتی، ترقی کے اشاریوں میں بھی صوبہ بھر میں نمایاں بہتری کاحامل ضلع ہے اس کی بنیادی وجہ ضلعی انتظامیہ کی فعالیت، سرکاری اداروں میں تعاون اور اشتراکِ عمل سرکاری و نجی اداروں کا باہمی تعاون، سول سوسائٹی کا کردار اور افراد معاشرہ کا اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور ان کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی شراکت کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

ضلعی دفتر محکمہ بہبود آبادی جہلم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے خدمات فراہم کرتے ہوئے دیگر معاشرتی ذمہ داریوں مثلاً صحت عامہ، عورتوں کے مسائل، صحت و صفائی، غذائی قلت، عورتوں کی تعلیم، وغیرہ میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے سیمینار، آگاہی واک، محکمہ ہیلتھ اور تعلیم کے ساتھ مشترکہ تقریبات کا اہتمام کرتے ہوئے دور دراز علاقوں میں ہیلتھ اور فیملی پلاننگ کیمپس کا انعقاد کر رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر خصوصی پلان کے تحت سال بھر کے لئے تعلیمی اور آگاہی تقریبات کا ایک مفصل پلان ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت یونین کونسل کی سطح پر موزوں شادی شدہ جوڑوں کی مکمل رجسٹریشن، مذہبی علماء کے ساتھ سیشن تھیٹر پرفارمنس ساس بطور فیصلہ ساز کے ساتھ آگاہی سیمینار یونین کونسلز اور تحصیل کی سطح پر کمیونٹی سیشن لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپروائزرز کے ساتھ میٹنگز علاقائی سطح پر عوامی نمائندوں کے ساتھ ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔

روایتی ثقافتی میلوں اور کھیلوں کا انعقاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بھرپور کوریج کے لئے مقامی اخباری نمائندوں کے ذریعے بھرپور کیبل ٹی وی ریڈیو کے ذریعے کوریج شامل ہے، اس سلسلہ میں ضلعی دفتر محکمہ بہبود آبادی جہلم جناب ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر جہلم اور ان کی ٹیم کا مشکور ہے کہ جن کے تعاون سے ان تمام تقریبات کو نمایاں طور پر اجاگر کرنا ممکن ہوتا ہے۔

ضلعی دفتر محکمہ بہبود آبادی جہلم اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور دیگر معاشرتی مسائل کے حل کے لیے اپنی بھرپور کوشش جاری رکھتے ہوئے عوام الناس تک بہترین خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.