کھیوڑہ ٹریفک حادثہ کے اصل حقائق سے اب پردہ اٹھنا چاہیے

تحریر: سلیمان شہباز

0 7

کھیوڑہ چوآسیدن شاہ پہاڑی ایریا میں کھیوڑہ شہر کی تاریخ کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں کھیوڑہ شہر کے مقامی سات افراد کی جانیں گئی۔ میرے ذرائع کے مطابق مذکورہ حادثے کا سبب بننے والا ڈمپر مبینہ طور پرٹیکسلا کی ٹرانسپورٹ پارٹی کا تھا جوکہ پنڈدادنخان لِلہ روڈ کی تعمیر کا میٹریل لے کر آرہا تھا جس کی بریک فیل ہونے کے باعث افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بریک فیل ہونے کے بعد ڈمپر ڈرائیور نے کسی قسم کا کوئی احتیاطی یا ہنگامی اشارہ دیا ہوگا ؟اوور لوڈنگ اور بریک فیل ہونے کے علاوہ بھی تو حادثہ کی وجوہات ہوسکتی ہیں ان پر کیا تحقیقات ہوئی ہیں یا ہورہی ہیں،ڈمپر ڈرائیوڑ ابھی تک گرفتار ہوا یا نہیں ہوا اس سارے معاملے پر بہت سے سوالات اُٹھتے ہیں ،لیکن اس افسوس ناک واقع کو جو غلط رنگ دیا گیا۔

اس پر عوام کی خاموشی پر بھی سوالیہ نشان بنتا ہے چونکہ تحصیل پنڈدادنخان انڈسٹریل زون ہے اور یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش معدنیات سے منسلک ہے جبکہ یہاں برااعظم ایشیاء کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری بڑی کان نمک کھیوڑہ کے علاوہ سوڈا ایش کمپنی،غریبوال سیمنٹ فیکٹر ی سمیت درجنوں جپسم کی فیکٹریاں بھی ہیں، تحصیل پنڈدادنخان کے90 فیصد لوگوں کا دارومدآر صنعتی اداروں اور معدنیات سے منسلک ہے۔

24اکتوبر کو سانحہ پہاڑی ایریا میں ہوا اور شہر کا بہت بڑا ناقابل تلافی جانی نقصان ہوا، 25اکتوبر صبح ہوتے ہی اسی حادثہ کی بنا پر شہر میں مختلف مقامات پر احتجاج ہونا شروع ہوگئے، پہلا احتجاج کھیوڑہ ریلوے پھاٹک کے قریب ہوا جس میں عوام کو اشتعال دلاتے ہوئے سارے واقع کا رخ ایک ادارے کی طرف موڑ دیا گیا ،اس سازش کے پیچھے کس کا مقصد ہو سکتا ہے ؟جبکہ مین احتجاج جو کے اوور لوڈنگ کے خلاف اور علاقہ کے لیے بائی پاس کی منظوری کے لیے کیا جانا تھا مہر نذر چوک سے شروع ہوا ،احتجاج میں مختلف ٹولے اپنے اپنے مطالبات پیش کرتے ہو نظر آئے۔

شہر کے مفاد کے لیے احتجاج کی سمت درست ہونا اور مقاصد کا درست ہونا ضروری نہیں؟اس احتجاج کو لیڈ کرنے والے اور اصل حقائق سے عوام کو گمراہ کرکے متنازع احتجاج کروانے والے شہر کے مخلص ہو سکتے ہیں ایک ادارے کو ہی ٹارگٹ کرنا اور اس ادارے کو جس کا اس حادثہ سے کوئی تعلق ہی نہیں اور اس ادارے کی شہر کے لیے فلاحی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں ہیں۔

احتجاج میں شامل ہونے والے لوگ کون ہیں کیا شہر کے مخلص انتشار پھیلاتے ہیں اگر انکو اتنی ہی ہمدردی اور دکھ تھا تو اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اصل حقائق پر نظر کیوں نہیں ڈالی، FWOکے ساتھ کام کرنے والے ڈمپر کے ڈرائیور کا پیچھا کیوں نہیں کیاگیا، اصل احتجاج تو مذکورہ کمپنی کے ڈمپر خلاف لِلہ چوک پنڈدادنخان میں ہونا چاہیے تھا ؟ لیکن اپنی مرضی کے مطابق احتجاج کرنا اور ایک ادارے کو ٹارگٹ بنانے کے کیا مقاصد ہیں؟

باشعور عوام کو یہ سوچنا ہوگا، ہمارے شہر میں اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی شام کے وقت کھیوڑہ ریلوے پھاٹک پر جپسم سے بھری اوور لوڈ ٹرالیاں اب بھی کھڑی ہوتی ہیں، کیا ان پر قانونی ادارے عملدرامد کروا رہے ہیں؟ کیا اوور لوڈنگ ختم ہوگئی ہے جسپم فیکٹریاں ہوں یا کان نمک پھر چاہیے سوڈا ایش کمپنی ہی کیوں نہ ہو، ان میں کام کرنے والے مزدور ورکر ہمارے شہر کے ہیں اداروں کے میٹریل کی سپلائی میں خلل پیدا ہوگا تو اس سے معاشی طور پر ہمارے شہر کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی نقصان ہوگا۔

اس انتشار کی سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے ہر شہری کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اگر شر پسند عناصر کو نکیل نہ ڈالی گئی تو یہ اپنے مفاد کی خاطر شہر کا نقصان کرنے سے بھی باز نہیں آئیں گے، ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری بند ہونے سے جتنا نقصان ہمارے شہر کا ہوا ہے اس کا اندازہ ہم بہت قریب سے لگا سکتے ہیں۔

مفاد پرست عناصر کے چہرے سے شہر کی جھوٹی ہمدردی کا نقاب اتارنا ہوگا تاکہ ہمارا شہر معاشی طور پر ترقی کرے اداروں سے تصادم اور انتشار کی کوشش کسی ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ پورے شہر کا نقصان ہے، اگر ہم شہر سے مخلص ہیں تو ہمیں اصل حقائق پر رہتے ہوئے شر پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، شہر کی بھلائی کا درس دینے والوں کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا، کسی بھی طبقے یا شہر کی بھلائی کے لیے مخلص قیادت کا ہونا اہم ہوتا ہے، جرائم پیشہ یا مفاد پرست عناصر کبھی شہر کی بھلائی میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتے۔

کھیوڑہ شہر کے رہائشیوں کا حق بنتا ہے کہ اس حادثے کو غلط رنگ دینے اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر انتشار پھیلانے والوں سے سوال کریں کہ اس افسوسناک واقعہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں کس کا کیا مفاد تھا جس ڈمپر کا سوڈایش کمپنی سے تعلق بھی نہیں کمپنی گیٹ پر حملہ کرنے اور اس کے خلاف نعرے لگانے کا کیا مقصد تھا۔

اس سارے واقع کے اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کس نے کی اور کیوں کی ،اس حادثہ کی تحقیقات کیا ہورہی ہیں اور ڈمپر کا ڈرائیوار کون تھا اور ابھی تک کہاں ہے حادثے کا شکار ہونے والی کار آخر ڈمپر کے سامنے کیسے آگئی ؟شہر کا امن برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کو حقیقت جاننے کی کوشش کرنا ہوگی۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.